Results 1 to 2 of 2

Thread: چراغ تلے اندھیرا ۔۔۔۔ زاہد اعوان

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,276
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Rep Power
    214784

    Thumbs up چراغ تلے اندھیرا ۔۔۔۔ زاہد اعوان

    چراغ تلے اندھیرا ۔۔۔۔ زاہد اعوان

    وزیراعظم عمران خان آج سے تقریباً بائیس برس قبل جب میدانِ سیاست میں اُترے اور پاکستان تØ+ریک انصاف Ú©ÛŒ بنیاد رکھی تو انہیں سب سے زیادہ پذیرائی نوجوان نسل Ú©ÛŒ جانب سے ملی کیونکہ وہ ایک کھلاڑی تھے اور کرکٹ ورلڈ Ú©Ù¾ Ú©Û’ فاتØ+ کپتان Ú©ÛŒ Ø+یثیت سے پوری قوم Ú©Û’ ہیرو بھی‘ لیکن نوجوان ان Ú©Û’ زیادہ مداØ+ تھے اور انہوں Ù†Û’ ہی ابتدا میں Ù¾ÛŒ Ù¹ÛŒ آئی Ú©Ùˆ سپورٹ کیا۔ عمران خان اور ان Ú©ÛŒ جماعت Ú©Û’ دیگر بانی رفقا Ù†Û’ جب دیکھا کہ ان Ú©ÛŒ پارٹی Ú©Û’ زیادہ تر سپورٹرز نوجوان ہیں تو انہوں Ù†Û’ ''یوتھ‘‘ کا نعرہ لگایا اور اقبال Ú©Û’ شاہینوں Ú©Û’ ذریعے قوم کا مستقبل تبدیل کرنے کا پلان بنایا۔ Ù¾ÛŒ Ù¹ÛŒ آئی Ú©Û’ ابتدائی سیاسی دور میں جو نوجوان عمران خان Ú©Û’ مداØ+ اور Ø+امی تھے‘ ان Ú©ÛŒ اکثریت اٹھارہ سال سے Ú©Ù… عمر تھی جن Ú©Û’ اس وقت نہ تو قومی شناختی کارڈ بنے تھے اور نہ ہی انہیں ووٹ کا Ø+Ù‚ Ø+اصل تھا۔2013 Ø¡ میں صورتِ Ø+ال بدل Ú†Ú©ÛŒ تھی اور خان صاØ+ب Ú©Û’ مداØ+ÙˆÚº Ú©ÛŒ اکثریت شناختی کارڈ اور ووٹ کا Ø+Ù‚ Ø+اصل کر Ú†Ú©ÛŒ تھی‘ اسی لئے پاکستان تØ+ریک انصاف Ù†Û’ نوجوان نسل Ú©Û’ ذریعے ملک میں تبدیلی کا نعرہ بلندکیا اور اپنے نعروں، ترانوں اور بلند بانگ دعووں سے نوجوان نسل Ú©Û’ جوش Ùˆ جذبے Ú©Ùˆ گرمایا۔ پھر ایک سو چھبیس دن Ú©Û’ دھرنے میں بھی نوجوانوں کا جوش دیدنی تھا جس Ù†Û’ عمران خان Ú©Ùˆ سیاسی طور پر مزید تقویت بخشی۔ 2018Ø¡ Ú©Û’ عام انتخابات میں انہی نوجوانوں Ú©ÛŒ بدولت تØ+ریک انصاف ایوانِ اقتدار تک پہنچنے میں کامیاب ہو پائی۔ اقتدار ملنے Ú©Û’ بعد سب سے بڑی Ø+امی ہونے Ú©ÛŒ وجہ سے اس جماعت سے سب سے زیادہ توقعات بھی نوجوان نسل Ù†Û’ ہی وابستہ کر رکھی تھیں، چونکہ ہر عمر Ú©ÛŒ توقعات اور تقاضے الگ ہوتے ہیں لہٰذا نوجوانوں Ú©ÛŒ توقعات بھی قدرے مختلف تھیں۔ شاہین سمجھتے تھے کہ اب انہیں تعلیمی اداروں میں داخلے Ú©Û’ لئے کسی Ú©ÛŒ سفارش Ú©ÛŒ ضرورت نہیں رہے گی، نوکریاں بھی کسی قسم Ú©ÛŒ رشوت یا سفارش Ú©Û’ بغیر سو فیصد میرٹ پر مل سکیں گی، روزگار Ú©Û’ مواقع زیادہ سے زیادہ ہوں Ú¯Û’ØŒ مہنگائی ختم ہو جائے گی۔ ایک سپورٹس مین وزیراعظم سے سب سے بڑی توقع ملک میں کھیلوں Ú©ÛŒ جدید ترین سہولتوں Ú©ÛŒ فراہمی اور نوجوان کھلاڑیوں Ú©Ùˆ اپنی صلاØ+یتوں Ú©Û’ اظہار Ú©Û’ زیادہ سے زیادہ مواقع میسر کرنے Ú©ÛŒ تھی۔ وزیراعظم عمران خان Ú©ÛŒ Ø+امی نوجوان نسل Ú©ÛŒ خواہش تھی کہ وزیراعظم کھیلوں سے متعلقہ وزارت اپنے پاس رکھیں اور سپورٹس Ú©Û’ شعبے میں ایسا انقلاب برپا کریں جس سے پاکستان کھیلوں Ú©ÛŒ دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ Ø+اصل کر سکے۔ نوجوانوں کا خیال تھا کہ اب وزیراعظم روزانہ Ù¾ÛŒ ایم ہائوس اور سیکرٹریٹ سے صرف چند سو گز Ú©Û’ فاصلے پر واقع پاکستان سپورٹس کمپلیکس میں ان Ú©Û’ ساتھ واک کیا کریں Ú¯Û’ØŒ شاید یہ خام خیالی اس لیے بھی تھی کہ اس سے قبل سابق صدر پرویز مشرف سمیت کئی سربراہانِ مملکت اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر روزانہ سپورٹس کمپلیکس آتے اوربیڈمنٹن وغیرہ کھیلتے تھے۔ لیکن شاید بطور وزیراعظم عمران خان Ú©ÛŒ ترجیØ+ات Ú©Ú†Ú¾ اور ہیں، اسی لیے Ø+کومت سنبھالنے Ú©Û’ بعد کھیلوں کا شعبہ ان Ú©ÛŒ ترجیØ+ات میں نمایاں مقام نہیں پا سکا۔ وفاقی سطØ+ پر کھیلوں کانظم Ùˆ نسق سنبھالنے والی وفاقی وزارتِ بین الصوبائی رابطہ کا قلمدان ایک اتØ+ادی جماعت Ú©Ùˆ کوٹے میں دے دیا گیا اور یوں یہ قرعہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا Ú©Û’ نام نکلا جن کا شاید ہی کبھی سپورٹس سے واسطہ رہا ہو۔ بدقسمتی نوجوان کھلاڑیوں Ú©ÛŒ یہ کہ فروری 2018Ø¡ میں ڈائریکٹر جنرل پاکستان سپورٹس بورڈ ڈاکٹر اختر نواز اپنی مدتِ ملازمت مکمل ہونے پر ریٹائر ہو Ú†Ú©Û’ تھے اوراس بات کا انتظارتھا کہ نئی Ø+کومت برسر اقتدار آنے Ú©Û’ بعد ملک میں کھیلوں کا نظام چلانے والے سب سے بڑے ادارے‘ Ù¾ÛŒ ایس بی میں ÚˆÛŒ جی Ú©ÛŒ تعیناتی عمل میں لائے۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا Ù†Û’ وزارت کا قلمدان سنبھالا تو انہیں بتایا گیا کہ سب سے اہم اور اولین ترجیØ+ ملک میں کھیلوں Ú©Û’ سب سے بڑے ادارے میں سربراہ Ú©ÛŒ تعیناتی ہے کیونکہ اس Ú©Û’ بغیر نظام Ù¹Ú¾Ù¾ ہو چکا ہے اور کھیلوں Ú©Û’ معاملات تباہی سے دوچار ہو رہے ہیں کیونکہ وزارت Ú©Û’ جن افسران Ú©Ùˆ ڈھائی‘ تین ماہ کیلئے ÚˆÛŒ جی Ù¾ÛŒ ایس بی کا اضافی چارج دیا جاتا ہے، وہ اس شعبے میں کوئی دلچسپی نہیں لیتے اور معاملات خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔
    راقم الØ+روف Ù†Û’ جب ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا پہلا انٹرویو کیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے جو افسر پورے ملک میں ناکارہ سمجھا جاتا تھا‘ اسے پاکستان سپورٹس بورڈ میں لگا دیا جاتا تھا لیکن اب ایک عالمی چمپئن وزیراعظم ہیں‘ اس لئے آپ دیکھیں Ú¯Û’ کہ آئندہ چند یوم میں کھیلوں Ú©Ùˆ سمجھنے والی کسی ایسی شخصیت Ú©Ùˆ ÚˆÛŒ جی تعینات کیا جائے گا جسے عالمی سطØ+ پر کھیلوں کا نظم Ùˆ نسق چلانے کا وسیع تجربہ ہو۔ اس بات Ú©Ùˆ بھی دو سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے جبکہ ÚˆÛŒ جی کا عہدہ تین سال ہونے والے ہیں‘ ابھی تک خالی پڑا ہے اور کوئی بھی تاØ+ال پاکستان سپورٹس بورڈ کا سربراہ تعینات نہیں ہو سکا۔ تقریباً ایک سال قبل‘ یہ مشق ضرور دیکھنے Ú©Ùˆ ملی کہ عالمی سطØ+ پر سپورٹس کا وسیع رکھنے والی ایک شخصیت Ú©ÛŒ تعیناتی Ú©ÛŒ خبریں گردش میں آئیں جس کا پورے ملک میں کھیلوں Ú©Û’ ماہرین، شائقین اور قومی فیڈریشنوں Ú©ÛŒ جانب سے خیر مقدم کیا گیا لیکن پھر یہ معاملہ بھی سرد خانے Ú©ÛŒ نذر ہو گیا اور آج تک کسی Ú©ÛŒ بھی تقرری نہیں ہو سکی۔
    سابق ÚˆÛŒ جی Ú©ÛŒ ریٹائرمنٹ Ú©Û’ بعد تقریباً دو سال تک وزارت Ú©ÛŒ جانب سے جوائنٹ سیکرٹری سطØ+ Ú©Û’ کسی افسر Ú©Ùˆ تین ماہ کیلئے Ù¾ÛŒ ایس بی Ú©Û’ سربراہ کا اضافی چارج دیا جاتا رہا‘ جو افسر بھی اس سیٹ پر آتا، اسے یہ معلوم ہوتا تھا کہ اس Ú©Û’ پاس صرف اڑھائی ماہ ہیں‘ لہٰذا اس قلیل عرصہ میں اس Ù†Û’ بیرونِ ملک ٹور بھی کرنا ہوتا اور باقی معاملات بھی سیدھے کرنا ہوتے، اسی لیے یہ سیٹ نہایت پُرکشش سمجھی جانے Ù„Ú¯ÛŒ لیکن جب یہ شکایات سامنے آئیں تو اس پر الٹا اثر ہوا اور ادارے میں مستقل سربراہ Ú©ÛŒ تعیناتی Ú©Û’ بجائے کسی افسر Ú©Ùˆ ÚˆÛŒ جی کا اضافی چارج دینے کا سلسلہ بھی بند کر دیا گیا۔ یوں سپورٹس بورڈ Ú©Û’ تمام معاملات وفاقی وزارت Ú©Ùˆ منتقل ہو گئے۔ ایک ڈپٹی ÚˆÛŒ جی Ú©ÛŒ جانب سے معاملے Ú©Ùˆ زیرالتوا رکھ کر مزید طول دینے میں بھی مبینہ طور پر بدنیتی نظر آتی ہے۔
    تقریباً ایک سال سے پاکستان سپورٹس کمپلیکس میں کھیلوں Ú©ÛŒ سرگرمیاں نہ ہونے Ú©Û’ برابر ہیں اور کھیلوں کا انفراسٹرکچر دیگر سرگرمیوں Ú©Û’ لیے استعمال ہو رہا ہے جو اس ملک Ú©ÛŒ نوجوان نسل Ú©Û’ ساتھ زیادتی اور ناانصافی ہے۔ بورڈ Ú©Û’ سینئر آفیشلز کا کہنا ہے کہ تمام اختیارات وفاقی وزارت Ú©Û’ پاس ہیں لہٰذا کسی بھی ٹورنامنٹ یا کیمپ Ú©ÛŒ منظوری سے Ù„Û’ کر کسی انٹرنیشنل کھلاڑی Ú©Ùˆ ہاسٹل میں ایک رات Ú©Û’ لیے کمرہ دینے Ø+تیٰ کہ ممبران Ú©Û’ ممبرشپ کارڈز Ú©ÛŒ تجدید Ú©ÛŒ منظوری بھی وفاقی وزارت Ú©ÛŒ جانب سے ہوتی ہے اور وزارت Ú©ÛŒ دیگر مصروفیات Ú©Û’ باعث تقریباً تمام معاملات Ù¹Ú¾Ù¾ ہو Ú†Ú©Û’ ہیں، کھیلوں Ú©ÛŒ سرگرمیاں پوری طرØ+ معطل ہیں اور انفراسٹرکچر تباہ ہو رہا ہے۔2021Ø¡ میں سائوتھ ایشین گیمز کا میزبان چونکہ پاکستان ہے لہٰذا اس انٹرنیشنل ایونٹ کا انعقاد پاکستان سپورٹس بورڈ Ú©Û’ مستقل سربراہ Ú©ÛŒ تعیناتی Ú©Û’ بغیر ناممکن ہے جبکہ ملک Ú©ÛŒ نوجوان نسل بھی سخت مایوسی کا شکار ہے اور ہمارے کھلاڑیوں Ú©ÛŒ ٹریننگ Ùˆ پریکٹس کا عمل بھی بری طرØ+ متاثر ہو رہا ہے۔
    پاکستان سپورٹس کمپلیکس وزیراعظم ہائوس سے صرف پانچ منٹ Ú©ÛŒ مسافت پر واقع ہے اور اس قومی ادارے Ú©ÛŒ تباہی چراغ تلے اندھیرے Ú©Û’ مترادف ہے، لہٰذا Ø+کومت Ú©Ùˆ فوری طور پر اس کا نوٹس لینا چاہیے۔سپورٹس بورڈ میں میرٹ پر مستقل سربراہ Ú©ÛŒ تعیناتی عمل میں لا کر کھیلوں Ú©Ùˆ تباہی سے بچانا ناگزیر ہو چکا ہے ورنہ سیف گیمزکا انعقاد تو دور Ú©ÛŒ بات‘ اس عالمی ایونٹ میں ہمارے کھلاڑیوں Ú©ÛŒ شرکت پر بھی سوالیہ نشان Ù„Ú¯ جائے گا اور Ù¾ÛŒ Ù¹ÛŒ آئی Ú©ÛŒ سب سے بڑی Ø+امی نوجوان نسل شدید مایوسی کا شکار ہو جائے گی۔ اب بھی وقت ہے کہ Ø+کومت سپورٹس معاملات پر توجہ دے Û”



    2gvsho3 - چراغ تلے اندھیرا ۔۔۔۔ زاہد اعوان

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,276
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Rep Power
    214784

    Default Re: چراغ تلے اندھیرا ۔۔۔۔ زاہد اعوان

    2gvsho3 - چراغ تلے اندھیرا ۔۔۔۔ زاہد اعوان

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •